مشہور شاعر ساحر لدھیانوی نے کہا تھا!


خون اپنا ہو یا پرایا ہو
نسلِ آدم کا خون ہے آخر

جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں
امنِ عالم کا خون ہے آخر

بم گھروں پر گریں کہ سرحد پر
روحِ تعمیر زخم کھاتی ہے

کھیت اپنے جلیں کہ اوروں کے
زیست فاقوں سے تلملاتی ہے

ٹینک آگے بڑھیں کہ پیچھے ہٹیں
کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے

فتح کا جشن ہو کہ ہار کا سوگ
زندگی میتوں پہ روتی ہے

جنگ تو خود ایک مسئلہ ہے
جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی

Comments

More Likes

You May Like

You May Like

Archive

Show more