Elon Musk sing a Sindhi Song

صرف کنواروں کیلئے



صرف کنواروں کیلئے

·      کیا سوچ کر مجھ سے شادی کی تھی۔
·      شادی سے پہلے تو آپ ایسے نہ تھے۔
·      آپ کے سارے بھائی چالاک، پتا نہیں آپ اتنے بے وقوف کیوں۔
·      آپ کے گھر والوں نے تو کبھی مجھے دل سے بہو تسلیم کیا ہی نہیں۔
·      یوں لگے جیسے میں تو کوئی فالتو چیز ہوں۔
·      میں جیوں یا مروں، آپ کو اس سے کیا۔
·      کچھ پتا کتنے دن ہو گئے میرا حال پوچھے، پیار کی ایک بات کئے۔
·      آپ سے شادی کیا ہوئی میری تو قسمت ہی پھوٹ گئی۔
·      بابا سیانا کہے ’’بیوی جتنی بھی بھولی، خاوند کیلئے کافی‘‘۔


·      ٹوتھ برش کرنے کے بعد دانتوں پر انگلی پھیرنے سے اگر کیچوں کیچوں کی آواز آئے تو سمجھ لیں، دانت صاف ہو گئے۔
·      انسان چاہے جتنا نہا لے پانی انسان کے اندر نہیں جاتا۔
·      ہم جوتوں کے بنا چل سکتے ہیں، جوتے ہمارے بنا نہیں چل سکتے۔
·      زمین سورج سے اتنی ہی دور ہے، جتنا سورج زمین سے دور ہے۔
·      اگر آپ کے بچے مٹی کھاتے ہیں تو اُنہیں سیمنٹ کھلائیں تاکہ بنیاد پکی ہو۔


·      بیوی کی رات 12 بجے آنکھ کھلی، دیکھا خاوند نہیں،  کمرے سے باہر آئی، خاوند ٹی وی لائونج میں سر پکڑے بیٹھا۔
بیوی نے پوچھا: یہاں۔ اس وقت، ایسے۔ کیوں؟
خاوند بولا ’’تمہیں یاد ہے آج سے 14سال پہلے ہم چھپ چھپ کر ملا کرتے تھے‘‘،
بیوی نے کہا: ہاں یاد ہے۔
خاوند نے کہا: یاد ہے ایک مرتبہ ہم بیٹھے تھے کہ اچانک تمہارے والد آ گئے۔
بیوی بولی: ہاں یاد ہے۔
خاوند نے کہا: یاد ہے تمہارے والد نے بندوق کی نالی میرے ماتھے پر رکھ کر کہا تھا، اگر تم نے میری بیٹی سے شادی نہ کی تو میں تمہیں 14 سال کیلئے جیل بھجوا دوں گا۔
بیوی حیران، پریشان ہو کر ’’ہاں یاد ہے مگر بات کیا ہے‘‘
خاوند دکھی لہجے میں بولا ’’اُس دن جیل چلا جاتا تو آج میں نے آزاد ہو جانا تھا‘‘۔



·      ایک بیوی ٹی وی دیکھتے اور مالٹے کھاتے موبائل سے سہیلیوں کو میسجز کر رہی تھی، دفتر سے آیا خاوند اپنا موبائل کچن میں چارجنگ پر لگا کر ابھی بیوی کے پاس بیٹھا ہی تھا کہ اس کا فون بجنے لگا، وہ اُٹھ کر کچن میں گیا، موبائل دیکھا، بیگم کا میسج تھا ’’مالٹے کھا رہی ہوں، نمک لانا بھول گئی، واپسی پر کچن سے نمک لیتے آنا‘‘۔


·      ایک بھلی مانس اپنی سہیلی کو سمجھا رہی تھی کہ مصیبتیں کبھی تنہا نہیں آتیں، کہنے لگی اب دیکھو نا دو ہفتے پہلے خاوند فوت ہوگیا اور کل موبائل کا چارجر گم ہوگیا۔


·      ایک بیوی نے جب اپنے خاوند سے کہا ’’تمہاری ڈرائیونگ ایسی کہ موت کا فرشتہ ساتھ ساتھ ہی رہے تاکہ آنے میں دیر نہ ہو جائے‘‘
تو خاوند کا جواب تھا ’’تمہاری ککنگ ایسی کہ شیطان روز مجھ سے کہے ’’بھائی آج بسم اللہ پڑھ لینا، مجھ سے اب یہ بدذائقہ کھانے نہیں کھائے جاتے‘‘


·      آدم خور شوہر جو اپنے بیٹے کے ساتھ شکار پر نکلا، ایک خوبصورت عورت نظر آئی۔
بیٹا بولا ’’ابا اس کو کھا لیتے ہیں‘‘
باپ بولا ’’نہیں بیٹا اسے گھر لے جاتے ہیں، گھر جاکر تمہاری ماں کو کھا لیں گے‘‘ ۔


·      ایک صاحب تیتر کا گوشت کھانے ایک ہوٹل گئے، کھانا کھاتے ہوئے انہیں شک گزرا کہ تیتر کے گوشت میں ملاوٹ، انہوں نے ویٹر کو بلا کر کہا ’’سچ سچ بتاؤ، گوشت میں ملاوٹ کی ہے‘‘
ویٹر بولا ’’صاحب سچی بات تیتر کا گوشت بہت مہنگا، نایاب، اس لئے اس میں گائے کے گوشت کی ملاوٹ کرنا پڑتی ہے‘‘
صاحب نے پوچھا ’’کتنی ملاوٹ کرتے ہو‘‘
ویٹر بولا ’’ففٹی ففٹی، ایک تیتر میں ایک گائے‘‘



  • ایک بابا جی نے پہلی بیوی کے ہوتے ہوئے ایک خوبصورت اورجواں سال لڑکی سے شادی کر لی ۔ معاشی حالات خراب ہوئے تو اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہا کہ ایک کو طلاق دے دیں۔ 
طلاق کس کو دیں؟ یہ بہت مشکل مرحلہ تھا۔ 
بابا جی نے اس کا حل یہ سوچا کہ دونوں بیویوں کو دس دس ہزار روپے دیئے اور خود دو ہفتوں کیلئے کہیں چلے گئے ۔ واپسی پر دیکھا کہ پہلی بیوی نے دو ہفتوں میں اپنا گزارا کر کے بھی پینتیس سو روپے بچار کھے تھے جبکہ جوان اور حسین بیوی نے نہ صرف دس ہزار روپے خرچ کر دیئے بلکہ ادھر ادھر سے پانچ ہزار قرض بھی لے لیا۔
بابا جی نے فیصلہ کیا ان کی پہلی بیوی کفایت شعار اور سلیقہ مند ہے، وہ کسی نہ کسی طرح اپنا گزارا اور خرچہ چلا لے گی ، جبکہ یہ بے چاری نوجوان بیوی ان کے بغیر بھوکی مر جائے گی ، اس لیے انھوں نے پہلی بیوی کو طلاق دے دی۔“



  • ایک شخص ایک بلند قامت درخت پر چڑھنے کے دوران یہ دیکھ کر سہم گیا کہ اس کی برابر والی شاخ پر ایک کالا سانپ اپنا پھن پھیلائے موجود ہے اور نیچے نظر ڈالی تو اسے لگا کہ گہرائی اتنی زیادہ ہے کہ اگر اس نے چھلانگ لگائی تو وہ مر جائے گا ، جس پر اس نے چلانا شروع کر دیا کوئی ہے، کوئی ہے جو مجھے بچائے۔ کچھ دیر تک کسی طرف سے کوئی جواب نہ آیا۔ بالآخر ایک آواز سنائی دی۔ اے انسان! میں تمہارا خدا ہوں ، تمھیں بچانا چاہتا ہوں ، بس جو میںکہوں وہ کرو۔“ اس نے کہا ” میرے خدا آپ جو کہیں گے وہی کروں گا۔“ آواز آئی ”تم نے جو شاخ سہارے کیلئے پکڑی ہوئی ہے، وہ شاخ چھوڑ دو“۔ یہ سن کر درخت سے لٹکے انسان نے اِدھر اُدھر دیکھا اور بآواز بلند کہا کوئی اور ہے؟“





Digital Sindh
Smart People

#abdulqayyumqasmani #qasmani #funny #urdujokes #fuk #commedy #jokes

Comments

More Likes

You May Like

You May Like

Archive

Show more